عید الاضحیٰ اسلامی تقویم کا ایک نہایت اہم اور بابرکت تہوار ہے، جو ہر سال ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اسے “عید قربان” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس موقع پر مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں، جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم…

By

عید الاضحیٰ

عید الاضحیٰ اسلامی تقویم کا ایک نہایت اہم اور بابرکت تہوار ہے، جو ہر سال ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اسے “عید قربان” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس موقع پر مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں، جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت اور خلوص کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج کر انہیں عظیم امتحان میں کامیاب کیا۔ یہی جذبۂ قربانی عید الاضحیٰ کی روح ہے۔

مذہبی اہمیت

عید الاضحیٰ کی بنیاد خالصتاً دینی جذبے پر ہے۔ اس کا آغاز حج کے اختتام کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان دنیا بھر سے مکہ مکرمہ میں حج کے لیے جمع ہوتے ہیں، اور 10 ذوالحجہ کو منیٰ میں جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ وہ مسلمان جو حج پر نہیں جا سکتے، وہ اپنے اپنے گھروں میں قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات، مفادات اور مال و دولت کو قربان کرنے کا عملی مظہر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں، نہ خون، بلکہ اُسے تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔”
(سورۃ الحج: 37)

قربانی کی حقیقت

قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اس عمل کے پیچھے موجود نیت اور تقویٰ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو مثال قائم کی، وہ اطاعت و بندگی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس عمل سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کا عزم رکھیں تو وہ ہماری نیتوں کو قبول فرماتا ہے اور ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔

عید کی تیاری

عید الاضحیٰ کی آمد سے قبل مسلمان خصوصی تیاری کرتے ہیں۔ بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے، مویشی منڈیوں کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں، اور ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اچھا جانور خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ جانوروں کی دیکھ بھال، انہیں سجانا، اور ان کے ساتھ محبت و شفقت کا اظہار بھی اس تہوار کا ایک خوبصورت پہلو ہے۔ بچے خاص طور پر قربانی کے جانور سے بہت مانوس ہو جاتے ہیں، اسے نام دیتے ہیں اور اس کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

قربانی کا عمل

عید کی نماز کے بعد قربانی کا عمل شروع ہوتا ہے، جو تین دن (10، 11، 12 ذوالحجہ) تک جاری رہتا ہے۔ قربانی کے جانور میں بعض شرائط کا ہونا ضروری ہے، جیسے عمر، صحت اور جسمانی مکمل ہونا۔ قربانی کرتے وقت مخصوص دعا پڑھنا اور جانور کو تکلیف سے بچانے کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہے۔ قربانی کے بعد گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے، اور تیسرا حصہ غریب و محتاج لوگوں کے لیے۔ اس تقسیم سے ہمیں مساوات، ہمدردی اور بھائی چارے کا سبق ملتا ہے۔

سماجی پہلو

عید الاضحیٰ نہ صرف مذہبی تہوار ہے بلکہ ایک عظیم سماجی پیغام بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس دن امیر و غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ عید مناتے ہیں، اور ایک دوسرے کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ غریبوں کو قربانی کے گوشت سے خوشی ملتی ہے، جو شاید سال بھر میں انہیں مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ یہ تہوار ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرے میں ہر فرد کی خوشی کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔

عید کے اخلاقی پیغامات

عید الاضحیٰ ہمیں صرف جانور قربان کرنے کا پیغام نہیں دیتی، بلکہ خود غرضی، حسد، نفرت، اور دنیاوی لالچ کو بھی قربان کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ کیا ہم صرف رسم نبھا رہے ہیں یا واقعی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کر رہے ہیں؟ جب تک قربانی کے ساتھ تقویٰ، خلوص، اور اللہ کی رضا شامل نہ ہو، تب تک اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

جدید دور میں قربانی کے مسائل

آج کے جدید دور میں قربانی کے کئی نئے پہلو اور چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ جانوروں کی قیمتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں، بعض اوقات دکھاوے اور مقابلہ بازی کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ لوگ جانور خرید کر سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں، جو کہ قربانی کی اصل روح کے خلاف ہے۔ اسلام نے ہمیں اخلاص، عاجزی اور اللہ کی رضا کا سبق دیا ہے، نہ کہ ریاکاری اور نمود و نمائش کا۔

نتیجہ

عید الاضحیٰ ہمیں ایمان، تقویٰ، قربانی، صبر، ایثار اور ہمدردی کا پیغام دیتی ہے۔ یہ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک مکمل تربیت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے ہر شے قربان کی جا سکتی ہے۔ اگر ہم اس دن کی اصل روح کو سمجھ لیں اور اپنی زندگیوں میں اپنائیں تو ہمارا معاشرہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے۔


اگر آپ چاہیں تو اسی مضمون کو مختصر یا اسکول/کالج کے سطح کے مطابق مزید ڈھالا جا سکتا ہے۔

Leave a comment