ایک گاؤں میں بشیر نام کا ایک دیانت دار کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس زمین زیادہ نہ تھی، مگر جو کچھ تھا، اس پر قناعت کرتا تھا۔ وہ دن رات محنت کرتا، اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ سادہ زندگی بسر کرتا۔ گاؤں والے اس کی دیانت داری کی مثالیں دیتے تھے۔ وہ گاؤں کی مسجد کے چندے کی رقم بھی ایمانداری سے سنبھالتا، اور ہر سال اس کا حساب سب کے سامنے پیش کرتا۔
بشیر کا پڑوسی، قاضی اکرم، ذرا مختلف مزاج کا تھا۔ وہ مال و دولت کی ہوس میں رہتا تھا، اور اپنی چالاکی سے دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کا شوقین تھا۔ اُسے بشیر کی سچائی اور شہرت ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، کیونکہ لوگ قاضی کی بجائے اکثر بشیر سے مشورہ لیتے۔
ایک دن قاضی اکرم نے ایک سازش تیار کی۔ اس نے اپنی ہی بیل کو زخمی کیا اور گاؤں کے چوہدری کے پاس جا کر فریاد کی کہ بشیر نے اس کی بیل کو زخمی کیا ہے کیونکہ دونوں میں کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ گاؤں میں چوہدری کی عدالت لگائی گئی، جہاں بشیر کو حاضر کیا گیا۔
قاضی نے جھوٹی گواہیوں کے ساتھ اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی۔ کچھ گاؤں والے جو قاضی سے فائدہ اٹھاتے تھے، وہ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ بشیر خاموشی سے سنتا رہا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اُس نے صاف کہا:
“میں نے کسی بیل کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ میں جانتا ہوں، میرا رب دیکھ رہا ہے، اور سچ کو کبھی آنچ نہیں آتی۔”
چوہدری شک میں پڑ گیا۔ گاؤں کی روایت کے مطابق اگر کسی پر شک ہو جائے تو اسے قسم کھانے کو کہا جاتا تھا۔ قاضی نے فوراً قسم کھائی کہ بیل کو بشیر نے ہی زخمی کیا۔ اب بشیر کی باری تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، اپنی آنکھوں میں نمی لیے کہا:
“میں اپنے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں، میں بے قصور ہوں۔”
چوہدری نے مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا، مگر دل میں کچھ شک باقی تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اگلے دن دوبارہ تحقیقات کی جائیں گی۔
اگلی صبح حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ قاضی اکرم کی زخمی بیل اچانک غائب ہو گئی۔ جب لوگ اسے ڈھونڈنے نکلے تو وہ ایک دریا کے کنارے مردہ پائی گئی۔ گاؤں کے چند لڑکوں نے بتایا کہ انہوں نے بیل کو خود اپنے زخم چاٹتے ہوئے دیکھا، اور وہ زخم کسی انسان کے نہیں بلکہ کانٹوں کے جھاڑ میں لگنے والے تھے۔ بیل دراصل کھیت سے نکل کر جنگل میں بھاگ گئی تھی اور وہیں زخمی ہوئی۔
اب گاؤں والوں کو اصل حقیقت کا اندازہ ہوا۔ چوہدری نے قاضی اکرم کو بلایا اور سب کے سامنے اُس کی سازش کا پردہ فاش کیا۔ قاضی کو گاؤں کی پنچایت نے شرم دلائی، اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
وقت گزرتا گیا، اور بشیر کی اولاد بھی اس کی دیانتداری پر عمل پیرا ہوئی۔ اس کے بیٹے نے بعد میں گاؤں کی مسجد کے امام کا کردار سنبھالا، اور اُس نے اپنے والد کی بات کو بار بار دہرایا:
“سچ کو آنچ نہیں۔”
سازش کا آغاز
ایک دن قاضی اکرم کی قیمتی نسل کی بیل اچانک زخمی ہو گئی۔ اُس نے موقع غنیمت جان کر بشیر کے خلاف چال چلی۔ اُس نے گاؤں والوں کے سامنے شور مچایا کہ بشیر نے اس کی بیل پر حملہ کیا ہے، کیونکہ دونوں کے درمیان ایک دن قبل معمولی کہا سُنی ہوئی تھی۔ بشیر یہ سن کر حیران رہ گیا، لیکن اُس نے خاموشی سے سچائی کا دامن تھامے رکھا۔
قاضی نے اپنے چند چمچوں کو جھوٹی گواہی دینے پر آمادہ کیا، اور معاملہ گاؤں کی پنچایت کے سامنے پیش کر دیا۔ گاؤں کے چوہدری نے مقدمہ سنا اور فریقین کو صفائی کا موقع دیا۔
قدرت کی گواہی
اگلی صبح گاؤں کے بچے شور مچاتے ہوئے آئے کہ بیل کی موت ہو گئی ہے، لیکن اُس کی لاش کھیتوں کے پاس جھاڑیوں میں ملی۔ گاؤں کے بزرگ حاجی اسماعیل اور چند نوجوان وہاں پہنچے۔ بیل کے زخموں کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ وہ کانٹوں سے زخمی ہوئی تھی، نہ کہ کسی انسان کی ضرب سے۔
اس سے پہلے کہ قاضی کوئی اور کہانی گھڑتا، ایک لڑکا سامنے آیا اور بولا:
“میں نے بیل کو کل شام جھاڑیوں میں گھستے دیکھا۔ شاید وہ خوفزدہ ہو کر بھاگی اور زخمی ہو گئی۔”
سچ کی فتح
چوہدری نے قاضی پر جرمانہ عائد کیا اور اُسے حکم دیا کہ وہ سب کے سامنے بشیر سے معافی مانگے۔ قاضی نے بہت کوشش کی کہ معاملہ دب جائے، لیکن گاؤں والے اب اُس کے پیچھے نہ تھے۔ قاضی نے بشیر کے قدموں میں آ کر کہا:
“میں شرمندہ ہوں۔ مجھے معاف کر دو۔ میں نے تم پر بہتان باندھا۔”
وقت کا انعام
چند سال بعد، قاضی کا انتقال ہو گیا۔ اُس کی جائیداد کے جھگڑوں نے اُس کے خاندان کو تباہ کر دیا۔ دوسری طرف بشیر کا بڑا بیٹا اسکول کا استاد بن گیا اور چھوٹا بیٹا امام مسجد۔ دونوں بھائیوں نے اپنے والد کے اصولوں کو اپنایا۔ پورا گاؤں اُن کو عزت دیتا تھا۔
گاؤں میں جب بھی کوئی نیا بچہ اسکول میں داخل ہوتا، اُس کے والدین اُسے بشیر کی کہانی سناتے:
“یاد رکھو بیٹا، سچ وقتی طور پر دب سکتا ہے، مگر مٹ نہیں سکتا۔ سچ کو کبھی آنچ نہیں آتی۔“
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچائی وقتی طور پر آزمائش میں پڑ سکتی ہے، مگر آخرکار فتح سچائی کی ہی ہوتی ہے۔ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں، اور ایمانداری سے زندگی گزارتے ہیں، اُن کی حفاظت خود قدرت کرتی ہے۔ جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر انجام کار وہی ذلت کا باعث بنتا ہے۔
Leave a comment