
10 اپریل 2025 تک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو چکا تھا، تاہم دونوں ممالک براہ راست فوجی تصادم میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ یہ صورتحال 22 اپریل کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کے بعد مزید بگڑ گئی، جس میں 26 عام شہری ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان میں موجود عسکریت پسند گروپوں پر عائد کی، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ اس کے جواب میں بھارت نے کئی سفارتی اقدامات کیے، جن میں پاکستانی سفارت کاروں کی ملک بدری، ویزا سروسز کی معطلی اور سندھ طاس معاہدے سے علیحدگی شامل تھی۔ پاکستان نے ان اقدامات کے جواب میں اپنی سفارتی اور معاشی جوابی کارروائیاں کیں۔
⚔️ فوجی کارروائیاں
22 اپریل کے حملے کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو “آپریشن سندور” کے نام سے ایک فوجی کارروائی شروع کی، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس آپریشن کے دوران بھارت نے نو مقامات پر میزائل حملے کیے، جن میں بہاولپور، مریدکے، اور مظفرآباد شامل ہیں۔ ان حملوں میں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے گروہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستان نے ان حملوں میں شہری ہلاکتوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی اور ابتدائی حملے سے لاتعلقی ظاہر کی۔
پاکستان نے 10 مئی کو “آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت جوابی کارروائی کی، جس میں ڈرون اور میزائل حملے شامل تھے۔ ان حملوں کا ہدف بھارت کے فوجی ٹھکانے تھے، جن میں نئی دہلی بھی شامل ہے۔ دونوں ممالک نے شہری اور فوجی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، اور 7 مئی کے بعد سے اب تک کم از کم 48 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
🛡️ اسٹریٹجک اور جوہری اقدامات
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جوہری ہتھیاروں کے نگران ادارے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس طلب کیا، جس سے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فوجی کارروائیوں میں مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ بھارت نے بھی اپنی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور متاثرہ علاقوں میں 30 سے زائد ہوائی اڈے بند کر دیے ہیں۔
🌐 عالمی ردِعمل
امریکہ، چین، سعودی عرب، اور ترکی سمیت کئی عالمی طاقتوں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دونوں حکومتوں سے رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مکالمے کو فروغ دیا جا سکے۔
💧 پانی کی سلامتی کا بحران
تنازعے کے دوران بھارت نے 1960 کا سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا، جس سے پاکستان کی پانی کی رسد کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ پاکستان کی معیشت، زراعت، اور پن بجلی کا دارومدار انڈس بیسن پر ہے، اور یہ اقدام موسمیاتی تبدیلی سے پیدا شدہ پانی کی قلت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
🔍 مستقبل کی صورتِ حال
دونوں ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ اگر دوسرا ملک کشیدگی کم کرے تو وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ تاہم، حالات اب بھی کشیدہ ہیں اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی برادری مسلسل صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے ضبط اور مکالمے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔

تاریخی پس منظر
پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کی طویل تاریخ ہے، جس کا مرکز کشمیر ہے۔ 1947 کی تقسیم کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگیں اور جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ لائن آف کنٹرول (LoC) اس علاقے کو بھارتی اور پاکستانی انتظامیہ میں تقسیم کرتی ہے، لیکن دونوں ممالک اسے مکمل طور پر اپنا حصہ قرار دیتے ہیں۔
اپریل 2025 میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
اپریل 2025 کے آغاز میں کشیدگی کے کئی عوامل تھے:
- سرحد پار جھڑپیں: LoC پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا، اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر بلااشتعال فائرنگ کے الزامات لگائے گئے۔
- عوامی جذبات: دونوں ممالک میں قوم پرستانہ جذبات میں اضافہ دیکھا گیا، جو سیاسی بیانیے اور میڈیا رپورٹنگ سے مزید بھڑکے، اور حکومتوں پر سخت مؤقف اختیار کرنے کا دباؤ بڑھا۔
پہلگام حملہ اور اس کے نتائج
22 اپریل 2025 کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک دہشت گرد حملے میں 26 سیاح ہلاک ہو گئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں پر عائد کیا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا۔
سفارتی بحران
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے مندرجہ ذیل اقدامات کیے:
- سندھ طاس معاہدے کی معطلی: بھارت نے 1960 کے آبی معاہدے کو معطل کر دیا، جس سے علاقائی پانی کی سلامتی متاثر ہوئی۔
- سفارت کاروں کی ملک بدری: بھارت نے پاکستانی سفارت کاروں کو نکال دیا اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سروسز معطل کر دیں۔ پاکستان نے بھی اسی طرح کے جوابی اقدامات کیے۔
- سرحدی گزرگاہوں کی بندش: اٹاری-واہگہ سرحد سمیت اہم راستے بند کر دیے گئے، جس سے تجارت اور آمدورفت متاثر ہوئی۔
فوجی تیاری
سفارتی تنازعے کے بعد دونوں ممالک نے فوجی تیاری میں اضافہ کیا:
- فوجی نقل و حرکت: LoC پر دونوں جانب سے فوجی نقل و حرکت دیکھی گئی، جس سے تصادم کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔
- فضائی حدود کی بندش: سرحدی علاقوں میں فضائی حدود محدود کر دی گئی، جس سے شہری اور فوجی پروازیں متاثر ہوئیں۔
عالمی ردِعمل
بین الاقوامی برادری نے اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا:
- تحمل کی اپیل: امریکہ، چین، اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور پرامن مکالمے سے مسائل حل کریں۔
- اقوام متحدہ کی شمولیت: اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

انسانی بحران
تنازع کے انسانی پہلو بھی نمایاں تھے:
- نقل مکانی: LoC کے قریب رہنے والے افراد نے محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کی۔
- معاشی اثرات: سرحدوں کی بندش اور تجارت کی معطلی نے خاص طور پر ان علاقوں کی معیشت کو نقصان پہنچایا جو سرحد پار تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔
نتیجہ
10 اپریل 2025 تک پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست جنگ کا آغاز نہیں ہوا تھا، مگر حالات انتہائی نازک تھے۔ سفارتی ناکامی، فوجی تیاری، اور قوم پرستی پر مبنی جذبات نے خطے کو غیر مستحکم کر دیا تھا۔ عالمی برادری کی طرف سے تحمل اور مذاکرات پر زور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جوہری طاقت رکھنے والے ان دو ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی دنیا بھر کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ اپریل اور مئی کے واقعات نے اس خطے میں امن کی ناپائیداری اور سفارتی عمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا۔
Leave a comment