وقت کے سائے میں ہم نے جو لمحے گزارے تھےکبھی دھوپ میں تپتے، کبھی چھاؤں میں ہارے تھےکبھی خواب کی صورت اُترے تھے آنکھوں میںکبھی نیند کے دامن سے خاموش اتارے تھے وہ دن بھی تھے جب خواہشیں تتلی سی اڑتی تھیںہر رنگ کو ہم نے اپنی آنکھوں سے چھوا تھاہنسی تھی کہ بارش تھی،…

By

“وقت کے سائے میں”

وقت کے سائے میں ہم نے جو لمحے گزارے تھے
کبھی دھوپ میں تپتے، کبھی چھاؤں میں ہارے تھے
کبھی خواب کی صورت اُترے تھے آنکھوں میں
کبھی نیند کے دامن سے خاموش اتارے تھے

وہ دن بھی تھے جب خواہشیں تتلی سی اڑتی تھیں
ہر رنگ کو ہم نے اپنی آنکھوں سے چھوا تھا
ہنسی تھی کہ بارش تھی، ہر لفظ مہکتا تھا
دھوپ میں بھی جیسے کوئی ساون برسا تھا

مگر پھر ہوا یہ کہ لمحے بدلنے لگے
وقت کی گرد میں چہرے بھی بدلنے لگے
جو تھے پاس، وہ دوری کی اوٹ میں چھپ گئے
جو تھے خواب، وہ تعبیر سے پہلے ٹوٹ گئے

کبھی ہم نے سوچا تھا، زندگی کتنی سہانی ہو
ہر صبح نرالی ہو، ہر رات کی کہانی ہو
محبت ہو، امید ہو، وفا کا ساتھ ہو
ہر رستہ ہموار ہو، ہر چہرہ صاف ہو

مگر جو ملا، وہ کچھ اور ہی فسانہ تھا
نہ کوئی مکمل چاند، نہ کوئی دِوانہ تھا
سنا ہے وقت ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے
مگر کچھ درد ایسے ہیں جن کا کوئی بہانہ تھا

کہیں رشتوں کی جھوٹی مسکراہٹوں کا بوجھ
کہیں الفاظ کے خالی خولوں کی فوج
کہیں بے صدا چیخیں، کہیں خامشی کا شور
کہیں دل کی گلی میں گونجتا ایک دستور

ہزاروں لوگ ملے، مگر تنہائی نہ گئی
محفل میں بیٹھ کر بھی اندر کی خامشی نہ گئی
ہم نے آئینوں میں خود کو ڈھونڈنے کی کوشش کی
مگر عکس میں وہ پہچان ہی باقی نہ رہی

کبھی حرف قلم سے باہر نہ نکل سکے
کبھی دل کی بات ہونٹوں تک آتے ہی تھم گئی
کبھی ہم نے سچ کہا، تو وہ بغاوت ٹھہری
کبھی جھوٹ ہنسا، تو محفل نے داد دی

پھر ہم نے سیکھا:
کہ ہر چہرہ سچ نہیں ہوتا، ہر آنکھ خواب نہیں دکھاتی
ہر بات محبت کی نہیں ہوتی، ہر مسکراہٹ خوشی نہیں لاتی
کہ زندگی اک امتحان ہے، ہر پل اک پرچہ
کبھی سوال کٹھن، کبھی جواب الجھا ہوا صفحہ

مگر پھر بھی، اس گرداب میں اک روشنی باقی ہے
اک امید جو ہر تاریکی میں جگمگاتی ہے
کہ کہیں نہ کہیں کوئی حرف وفا کا ہو گا
کوئی چہرہ صداقت کا آئینہ ہو گا

ہم نے موسموں سے سیکھا ہے رنگ بدلنا
پت جھڑ میں بھی بہار کی خوشبو کو سہنا
دھوپ میں سایہ بن کے کسی کو چھاؤں دینا
اور رات کی تنہائی میں چراغ جلانا

تو اے وقت!
ہم تجھ سے شکوہ نہیں کرتے
تو جو بھی لایا، اس میں کچھ سبق چھپے تھے
تو جو لے گیا، وہ ضروری تھا شاید
ہم جو بچے ہیں، وہ بھی کافی ہیں شاید

اب ہم لمحوں کو گن کر نہیں جیتے
نہ ہر بات کا مطلب کھوجتے ہیں
بس آنکھیں بند کر کے سانس لیتے ہیں
اور جو ہو، اسے خامشی سے جیتے ہیں

ہاں، اب بھی خواب دیکھتے ہیں
مگر ان خوابوں میں حقیقت کی آنچ ہوتی ہے
اب بھی پیار کرتے ہیں
مگر لفظوں سے زیادہ خاموشی سے کرتے ہیں

اب زندگی کو شطرنج نہیں سمجھتے
کہ ہر چال سوچ کر چلنی ہو
اب بس دل سے جیتے ہیں
کہ جو بھی لمحہ ہے، وہ قیمتی ہو

اور آخر میں…
ہم جان چکے ہیں
کہ وقت کے سائے لمبے ہوتے ہیں
مگر سائے میں بھی
ایک وجود چھپا ہوتا ہے
اور ہر وجود کی کوئی کہانی ہوتی ہے…
جسے صرف دل کی آنکھ سے پڑھا جا سکتا ہے۔

وقت کے سائے میں پلتے جذبات

وقت صرف کل، آج اور کل کا کھیل نہیں بلکہ یہ انسان کے جذبات، احساسات اور رشتوں پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ایک وقت وہ بھی ہوتا ہے جب انسان ہنستا ہے، اور ایک وقت وہ بھی جب آنکھیں برسنے لگتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بدلتے ہیں، تعلقات کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے، کچھ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور کچھ نئے چہرے سامنے آتے ہیں۔

وقت کا فلسفہ

وقت کے سائے میں چلتے ہوئے انسان کئی سبق سیکھتا ہے — وہ جان لیتا ہے کہ ہر چیز مستقل نہیں، ہر خوشی عارضی ہے، اور ہر غم بھی ایک دن ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وقت انسان کو صبر، برداشت اور شکرگزاری سکھاتا ہے۔

وقت ایک فلسفہ ہے جس کی تہہ تک جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ زندگی کے ہر موڑ پر امتحان لیتا ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے وقت مہربان ہوتا ہے، کچھ کے لیے بے رحم۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ وقت کسی کا دوست یا دشمن نہیں ہوتا، وہ تو صرف اپنی رفتار سے چلتا ہے۔

ہم ہی ہیں جو وقت کو اچھا یا برا بناتے ہیں۔ وقت کے سائے میں جینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بس اسے گزار دیں — بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم وقت کے ہر لمحے سے کچھ حاصل کریں، کچھ سیکھیں، اور خود کو بہتر بنائیں۔

اختتامیہ

وقت کے سائے میں جینے کا ہنر وہی سیکھ سکتا ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو ہر لمحے کو سنوارنے کی جستجو رکھتا ہو۔ وقت ایک ایسا استاد ہے جو خاموشی سے سکھاتا ہے، اور جو اس کی بات سمجھ جائے، وہ زندگی کی بازی جیت جاتا ہے۔

یاد رکھیں، وقت کو روکنا ممکن نہیں، لیکن اس کے ساتھ چلنا، اس سے سیکھنا اور اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اس لیے، وقت کے سائے میں خود کو گم نہ کریں، بلکہ اس سائے کو اپنے ساتھ لے کر چلیں، تاکہ روشنی کی طرف بڑھ سکیں۔

One response to ““وقت کے سائے میں””

  1. Sundas Naseem Avatar
    Sundas Naseem

    👍👍👍

    Like

Leave a comment