وقت وہ دریا ہے، جو بہتا رہتا ہےنہ ٹھہرتا ہے، نہ رکتا ہےنہ سنتا ہے، نہ بولتا ہےمگر ہر چیز کو بدل دیتا ہے، توڑ دیتا ہے، جوڑ دیتا ہے وقت بچپن میں ماں کی لوری ہےباپ کے کندھوں پر سیر کی سواری ہےدوستوں کے ساتھ ہنسی کے لمحےاور اسکول کی چھٹی کی گھنٹی کی…

By

وقت

وقت وہ دریا ہے، جو بہتا رہتا ہے
نہ ٹھہرتا ہے، نہ رکتا ہے
نہ سنتا ہے، نہ بولتا ہے
مگر ہر چیز کو بدل دیتا ہے، توڑ دیتا ہے، جوڑ دیتا ہے

وقت بچپن میں ماں کی لوری ہے
باپ کے کندھوں پر سیر کی سواری ہے
دوستوں کے ساتھ ہنسی کے لمحے
اور اسکول کی چھٹی کی گھنٹی کی پیاری سی عادت ہے

پھر جوانی آتی ہے، خواب لاتی ہے
محبت کی بارش میں بھیگے ہوئے دن
آنکھوں میں چمکتے ارمانوں کا جنون
اور دل کے کونے میں چھپے ہوئے دکھ بھی، جن کا ذکر نہیں ہوتا

وقت خوشیوں کا ساتھی بھی ہے
اور جدائی کا پیغامبر بھی
یہ وہ خط لکھتا ہے، جو کبھی پوسٹ نہیں ہوتے
یہ وہ وعدے یاد دلاتا ہے، جو ٹوٹ چکے ہوتے ہیں

وقت آزمائش بھی ہے، اور امید بھی
کبھی مٹی سے سونا نکالتا ہے
کبھی سونے کو راکھ بنا دیتا ہے
وقت کی عدالت میں نہ کوئی سفارش چلتی ہے، نہ کوئی بہانہ

وقت زخمی کرتا ہے، پر مرہم بھی دیتا ہے
یہ ان آنسوؤں کو چپ کرواتا ہے، جو راتوں کو تنہا بہتے ہیں
یہ اُن مسکراہٹوں کی قدر سکھاتا ہے، جو کھو گئی ہوں برسوں پہلے
یہ بتاتا ہے، کہ جو چلا گیا، وہ سبق بن کر رہ گیا

وقت کتابوں کی گرد میں چھپی وہ تحریر ہے
جو ہم نے کبھی پڑھی نہیں، اور جب پڑھی، تو دیر ہو چکی تھی
یہ ماں کے خالی جھولے کی ہلکی سی چاپ ہے
یہ دادا کی چھڑی کا آخری نشان ہے دروازے پر

وقت وہ آئینہ ہے، جس میں چہرے نہیں، احساس نظر آتے ہیں
وہ خواب جو پورے نہ ہوئے
وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں
وہ لوگ، جو رہے دل میں، مگر چلے گئے زندگی سے

وقت کوئی تصویر نہیں، جو رک جائے
نہ کوئی گھڑی ہے، جو صرف تمہارے لیے چلے
یہ سب کے لیے برابر ہے
نہ امیر کو بخشے، نہ فقیر کو روکے

تو اے انسان!
وقت کے ساتھ چل، وقت کے ساتھ بدل
محبت کر، پر زبردستی نہیں
معاف کر، پر خود کو نہ بھول
جینا سیکھ، پر پچھتانے سے پہلے

کیونکہ وقت واپس نہیں آتا
بس یاد بن کر پلٹتا ہے
اور یادیں… کبھی ہنساتی ہیں، کبھی رُلاتی ہیں
مگر سب کچھ سکھا دیتی ہیں — جینا، سہنا، اور آخر میں… چھوڑ دینا۔


وقت — سب سے قیمتی سرمایہ

دنیا کی ہر شے دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے — دولت، صحت، رشتہ، عزت — لیکن وقت ایک ایسا خزانہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو پھر کبھی واپس نہیں آتا۔ وقت ایک خاموش سا استاد ہے، جو بغیر آواز کے ہمیں زندگی کے سب سے بڑے سبق دے جاتا ہے۔

وقت کیا ہے؟

وقت نہ دکھائی دیتا ہے، نہ چھوا جا سکتا ہے، مگر اس کے اثرات ہر لمحہ ہماری زندگی پر چھائے رہتے ہیں۔ سورج کا طلوع و غروب، دنوں کا آنا جانا، مہینوں کا بدلنا، سالوں کا گزر جانا — یہ سب وقت کی نشانیاں ہیں۔ انسان کی عمر کا ایک ایک لمحہ وقت کی امانت ہے، جو آہستہ آہستہ خرچ ہو رہی ہے۔

وقت کا صحیح استعمال

وقت وہ قیمتی دولت ہے جسے جس نے پہچان لیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ دنیا کے ہر کامیاب انسان کی زندگی میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے — وہ وقت کی قدر کرتا ہے۔ چاہے وہ ایک طالبعلم ہو، ایک کاروباری شخص، ایک فنکار، یا ایک رہنما — وہ جانتا ہے کہ وقت کا ضیاع دراصل زندگی کا ضیاع ہے۔

ہر صبح ہمارے پاس 24 گھنٹے ہوتے ہیں، اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم انہیں کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں، وہ اپنے اہداف حاصل کرتے ہیں۔ جو وقت کو ضائع کرتے ہیں، وہ پچھتاوے، حسرت اور ناکامی کا شکار ہوتے ہیں۔

وقت اور نوجوان نسل

آج کے نوجوان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے۔ وہ لمحہ لمحہ گنواتے ہیں، یہ سوچ کر کہ کل سب سنوار لیں گے۔ لیکن وقت کبھی رُکتا نہیں، نہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے۔ جو نوجوان اپنے وقت کو فضول مشاغل، سوشل میڈیا، یا بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر دیتے ہیں، وہ بعد میں یہی وقت واپس مانگتے ہیں — مگر وقت لوٹتا نہیں۔

طالبعلمی کے دن سیکھنے، بنانے اور سنوارنے کے دن ہوتے ہیں۔ اگر ان دنوں کو بیکار گزارا جائے تو پوری زندگی اس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی۔

وقت اور بوڑھا شخص

ایک بوڑھا شخص شاید دولت مند ہو یا محتاج، لیکن ایک چیز جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، وہ ہے گزرا ہوا وقت۔ وہ صرف یادیں سمیٹتا ہے، اور حسرت کرتا ہے کہ کاش اُس نے وقت کو بہتر انداز میں استعمال کیا ہوتا۔ زندگی کے آخر میں انسان کو دولت سے زیادہ اُس “وقت” کی قدر محسوس ہوتی ہے جو وہ رشتوں، خوابوں، عبادات اور خدمتِ خلق میں خرچ کر سکتا تھا۔

وقت کی قیمت

وقت کا سب سے بڑا ثبوت موت ہے۔ جیسے ہی انسان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، وقت ختم ہو جاتا ہے۔ پھر نہ کوئی عمل باقی رہتا ہے، نہ کوئی فیصلہ۔ جو کچھ بھی ہے، اسی وقت میں ہے۔ یہی لمحے ہیں جو عبادت کو نجات بناتے ہیں، خدمت کو عزت دیتے ہیں، اور محنت کو کامیابی میں بدلتے ہیں۔

وقت کا نظم و نسق

وقت کا بہترین استعمال سیکھنا کوئی آسان کام نہیں، لیکن ممکن ضرور ہے۔ اس کے لیے کچھ عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

  • دن کی منصوبہ بندی کریں
  • اہم کام پہلے انجام دیں
  • فضول مصروفیات سے بچیں
  • خود کو ایک ہدف دیں
  • سونے اور جاگنے کا وقت متعین کریں
  • روزمرہ کے کاموں کا تجزیہ کریں

یہ چھوٹے اقدامات انسان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

نتیجہ

وقت اللہ کی ایک انمول نعمت ہے۔ یہ نہ بیچا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے۔ جو وقت ہمیں ملا ہے، وہی ہماری اصل زندگی ہے۔ جو انسان وقت کی قدر کرتا ہے، وقت اُسے وہ سب کچھ دیتا ہے جس کا وہ خواب دیکھتا ہے۔

Leave a comment