(یہ جو سانسوں کی زنجیر ہے،یہ جو وقت کا بے رحم تیر ہے،یہ جو لمحے گزر رہے ہیں،یہ جو جذبے بکھر رہے ہیں،یہ جو خامشی بولتی ہے،یہ جو آنکھیں سوال کرتی ہیں،یہ سب کچھ کہتا ہے —کہ میں ہوں،اور پھر بھی مکمل نہیں۔ یہ زندگی بھی ایک کتاب ہے،کبھی کھلی، کبھی بند،کبھی لفظوں میں ڈھلی،کبھی…

By

سفرِ ذات

(یہ جو سانسوں کی زنجیر ہے،
یہ جو وقت کا بے رحم تیر ہے،
یہ جو لمحے گزر رہے ہیں،
یہ جو جذبے بکھر رہے ہیں،
یہ جو خامشی بولتی ہے،
یہ جو آنکھیں سوال کرتی ہیں،
یہ سب کچھ کہتا ہے —
کہ میں ہوں،
اور پھر بھی مکمل نہیں۔

یہ زندگی بھی ایک کتاب ہے،
کبھی کھلی، کبھی بند،
کبھی لفظوں میں ڈھلی،
کبھی سطروں سے آگے نکل گئی۔
کبھی آنکھوں سے بہہ گئی،
کبھی دل کے کونے میں چھپ گئی۔

کبھی ہم نے چاہا کہ خوابوں کو چھو لیں،
مگر حقیقتوں کی دیوار نے روک لیا۔
کبھی دل نے کہا کہ عشق کر،
پر عقل نے کہا، “یہ فریب ہے۔”

اک وقت تھا، جب امید کا دیا جلتا تھا،
ہر رات ایک نئی صبح کا وعدہ کرتی تھی۔
مگر اب وقت کی رفتار ایسی ہو چکی ہے
کہ لمحے بھی بوجھ لگتے ہیں،
اور سانس لینا بھی قرض معلوم ہوتا ہے۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں —
کیا سب کچھ فانی ہے؟
کیا جذبے بھی مٹ جاتے ہیں؟
کیا وہ جو ہنسی تھی، جو آنسو تھے،
جو چہروں پر رنگ تھے،
وہ سب خواب تھے؟ یا صرف دھوکہ؟

یادوں کی الماری میں،
کچھ تصویریں اب بھی سجی ہیں،
کچھ چہروں پر وقت نے دھند ڈال دی،
کچھ آوازیں اب سنائی نہیں دیتیں،
مگر دل جانتا ہے
کہ وہ سب حقیقت تھے،
کسی وقت کی قیمتی تحریر۔

کبھی تنہائی سے ڈر لگتا تھا،
اب تنہائی ہی دوست بن گئی ہے۔
کبھی رونے سے شرم آتی تھی،
اب آنکھیں خود ہی بہہ جاتی ہیں۔

کبھی کوئی تھا جو ہاتھ تھامتا تھا،
اب خود کو خود ہی سنبھالنا آ گیا ہے۔
کبھی کسی کا نام دل کی دھڑکن تھا،
اب وہ نام صرف ایک خاموشی ہے۔

زندگی نے بہت کچھ سکھایا،
کہ کس سے کب دور ہونا ہے،
کب کس پر اعتبار نہ کرنا ہے،
کب اپنے اندر جھانکنا ہے،
اور کب خامشی کو الفاظ دینا ہے۔

ہر رات ایک سبق دے کر جاتی ہے،
کہ دنیا کے شور میں
اپنی آواز کھو نہ دینا،
اور وقت کے طوفان میں
اپنی ذات کو مٹا نہ دینا۔

ہر شخص ایک کتاب ہے،
کچھ کہانیاں ادھوری،
کچھ بند سطریں،
کچھ راز،
کچھ دکھ،
کچھ وہ جو کسی کو بتائے نہیں گئے۔

اور میں؟
میں ان سب میں کھو گیا ہوں۔
ایک مسافر، جو نہ منزل جانتا ہے،
نہ راہ کا نقشہ،
بس چلتا جا رہا ہے،
کبھی امید کے سہارے،
کبھی دعا کے بل پر،
کبھی صرف عادت سے۔

کچھ لوگ ملے،
جنہوں نے کہا:
“تُو خاص ہے، تُو مکمل ہے”
مگر ان کی آنکھوں میں سچ کم تھا،
ہمدردی کا پردہ زیادہ۔

کچھ نے کہا:
“تُو بکھرا ہوا ہے،
تجھے جوڑنا مشکل ہے”
مگر ان کی باتوں میں درد سچا تھا،
آئینہ تھا۔

اب میں خود کو جوڑ رہا ہوں،
ٹوٹے خوابوں کو،
ادھوری دعاؤں کو،
چھوٹے لمحوں کو،
بچپن کی ہنسی کو،
ماں کی گود کی خوشبو کو،
کسی پرانی کتاب کے صفحوں کو،
کسی ان کہے محبت کے خط کو،
سب کو سمیٹ کر —
ایک نیا “میں” بنا رہا ہوں۔

یہ “میں” وہ نہیں جو کل تھا،
یہ وہ ہے جو آج،
ہر لمحہ، خود کو تشکیل دے رہا ہے۔

یہ “میں” وہ ہے
جو وقت سے لڑنا جانتا ہے،
جو زخموں کو ہنسی میں چھپا لیتا ہے،
جو دکھ کو لفظوں میں ڈھال کر،
اور ان سے مرہم بنا لیتا ہے۔

اور اب —
میں یہ جان چکا ہوں
کہ مکمل ہونا ضروری نہیں،
بلکہ جیتے رہنا،
سیکھتے رہنا،
محبت کرتے رہنا —
یہی اصل کامیابی ہے۔

یہ جو سفر ہے،
یہی اصل راز ہے،
یہی اصل شاعری ہے،
یہی اصل دعا ہے۔

اختتامیہ:
یہ نظم انسان کے اندرونی تضادات، سفر، بغاوت، قبولیت، اور اپنی ذات سے جُڑنے کی کہانی ہے۔ مکمل ہونے کا مطلب صرف باہر سے مکمل نظر آنا نہیں، بلکہ اندر سے خود کو سمجھ لینا ہے۔

سفرِ ذات

انسان کی زندگی محض دنیاوی منازل کا حاصل نہیں، بلکہ ایک مسلسل داخلی سفر کا نام ہے۔ یہ سفر، جسے ہم “سفرِ ذات” کہتے ہیں، بظاہر خاموش، مگر درحقیقت سب سے گہرا، سب سے طویل اور سب سے پیچیدہ سفر ہے۔ یہ نہ تو کسی جغرافیہ سے متعلق ہے، نہ کسی نقشے کا پابند۔ یہ وہ راستہ ہے جو دل و دماغ کے درمیان سے گزرتا ہے، اور روح کی گہرائیوں میں جا کر اترتا ہے۔

ابتدا: خود سے اجنبیت

ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا دور آتا ہے جب وہ اپنے ہی وجود سے اجنبی ہو جاتا ہے۔ آس پاس کی دنیا، تعلقات، ذمّہ داریاں، خواہشات، اور دنیاوی تقاضے اُس کی شناخت کو دھندلا دیتے ہیں۔ وہ جو اصل “میں” ہوتا ہے، وہ معاشرتی لبادوں میں کہیں چھپ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے سفرِ ذات کی ابتدا ہوتی ہے — خود سے سوال اُٹھتے ہیں:
میں کون ہوں؟
میرا اصل کیا ہے؟
میری ترجیحات میری اپنی ہیں یا دنیا کی بنائی ہوئی؟

روشنی: باطن کی معراج

سفرِ ذات کا اختتام کسی منزل پر نہیں، بلکہ ایک کیفیت پر ہوتا ہے۔ یہ کیفیت “روشن باطن” کی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جب خاموش ہوتے ہیں، تو ان کی خاموشی بولتی ہے۔ ان کی موجودگی سکون دیتی ہے، اور ان کا کردار روشنی بکھیرتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر کر، سچ کو پہچانا، اور خود کو بہتر بنایا۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا بدلنے کی کوشش سے پہلے خود کو بدلنا ضروری ہے۔

نتیجہ: مسلسل سفر

سفرِ ذات کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر دن ایک نیا سوال، ہر رات ایک نئی تلاش۔
یہ سفر انسان کو “انسان” بناتا ہے — احساس والا، باخبر، باعزت۔

دنیا میں جینے کے ہزاروں طریقے ہیں، مگر صرف وہی لوگ واقعی جیتے ہیں جو خود کو پہچان لیتے ہیں۔
خود کی تلاش، اصل آزادی ہے۔
خود کو جاننا، اصل علم ہے۔
اور خود کو قبول کرنا، اصل عبادت۔

آخری جملہ:

جو خود سے واقف نہیں، وہ کسی اور کو کیسے پہچان پائے گا؟
اور جو خود کو پا لے، وہ سب کچھ پا لیتا ہے۔

One response to “سفرِ ذات”

  1. fiazjutt212gb Avatar

    bilkul

    Like

Leave a comment